Information and theories about Islam

Showing posts with label پرسنیلیٹیز،. Show all posts
Showing posts with label پرسنیلیٹیز،. Show all posts

Sunday, July 24, 2016

یہ یا سر خان ہیں

یہ یاسر خان ہیں، سویڈن کی حکمران گرین پارٹی سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ مسلم سیاستدان - یہاں کیو موبائل کی بحث چھڑی ہے اور مغرب میں رہنے والے اس سیاستدان نے اسلام کی وجہ سے اپنی سیاست اور کیرئیر کو لات مار دی ہے۔ سبحان اللہ

یاسر خان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں خاتون صحافی کے ساتھ ہاتھ ملانے انکار کر دیا، خاتون ہاتھ لیے کھڑی رہ گئی اور وہ سینے پر ہاتھ رکھے ' ٹس سے مس' نہ ہوئے۔ سویڈن کا میڈیا اور حزب اختلاف اس نوجوان پر چڑھ دوڑے، اس عمل کو عورت کی توہین قرار دیا اور کہا کہ جہاں مرد کی مرد اور عورت سے عورت کے ساتھ شادی کی اجازت ہے، ایسے آزاد معاشرے میں اس طرح کے انکار کی اجازت نہیں دی جا سکتی، یہ ان اقدار کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ بات اتنی آگے بڑھی کہ سویڈش وزیراعظم کو بیان دینا پڑا کہ '' تمھیں مرد و عورت ، دونوں سے ہاتھ ملانا پڑے گا۔'' جوابا یاسر خان جو گرین پارٹی کے سنٹرل ایگزیکٹو بورڈ کی رکنیت کے امیدوار تھے، نہ صرف اس امیدواریت سے دستبردار ہو گئے بلکہ پارٹی کے ریجنل بورڈ اور سٹی کونسل کی رکنیت بھی چھوڑ دی اور پھر سیاست کو ہی خیرباد کہہ دیا کہ وہ اس پر کمپرومائز نہیں کر سکتے۔ جب اس پر اسلامسٹ ہونے کی پھبتی کسی گئی تو جوابا یسری خان نے کہا کہ اگر اسلامسٹ سے مراد باعمل مسلمان (practising Muslim) کی ہے تو وہ اسلامسٹ ہیں اور اگر اس سے مراد دہشت گردی ہے تو 
وہ اس سے اتنے ہی دور ہیں جتنا کوئی اور مغربی باشندہ

سبحان اللہ کس ملک اور کس ماحول میں یاسرخان نے ثابت قدمی دکھائی ہے۔ ایسے واقعات ہوتے ہیں جنھیں پڑھ کر بندے کا ایمان تازہ ہو 
جاتا ہے۔ یہ خبر رات دیکھی تھی اور تب سے سوچ رہا ہوں کہ کیوں یاسرخان کو ' مسلم تاریخ' اور 'لونڈیوں' کی بحث سے اٹے فقہی ذخیرے سے واقفیت ہو سکی نہ جواز کا فتوی ہی اس تک پہنچ سکا ورنہ مساوت مرد و زن سے بھرے اور '' جدید لونڈی خانے'' جیسے معاشرے میں ایک ہاتھ ملانے سے کیا ہونا تھا یا کسی نے اس پر کیا اعتراض کرنا تھا۔ اس لڑکی کا کہا جملہ یاد آتا ہے کہ '' عمر رض نہیں دیکھ رہے تو کیا ہوا، ہمارا اللہ تو سب دیکھ رہا ہے۔''

یسری خان کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے، اس سے آزادی کی ملمع کاری کا پردہ بھی چاک ہو گیا ہے اور سیکولرزم کی اس دلیل کا بھی کہ مذہب فرد کا ذاتی معاملہ ہے اور معاشرے یا ریاست کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وزیراعظم سے لے کر سویڈش حزب اختلاف اور میڈیا تک اس شخصی آزادی کے خلاف چلا اٹھے ہیں، ایک انکار سے ساری رواداری بیچ چوراہے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور آزادی کہیں دور منہ چھپائے حیران و پریشان کھڑی ہے۔

Friday, October 16, 2015

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہ


حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ایک اثر انگیز واقعہ
۔
ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے۔۔۔اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا ۔۔۔امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے۔۔۔آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو۔.
بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ۔۔۔وقت کا بادشاہ، چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو ۔۔۔اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا ۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں ۔۔۔کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔۔۔آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے۔۔۔اے عمر تو کافر تھا ۔۔۔ظالم تھا۔۔۔بکریاں چراتا تھا۔۔۔خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا۔۔۔کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا ۔۔۔آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے۔
اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں۔۔۔کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے۔
اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں۔۔۔کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے۔

Friday, August 21, 2015

یہ ہیں مولانا طارق جمیل صاحب




میانچنوں سے عبدالحکیم جاتے ہوئے راستے میں تلمبہ کا تاریخی شہر نظر آتا ہے - مؤرخین کے مطابق تلمبہ کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی...اسے قبل مسیح میں توحید کے متوالے بادشاہ پرھلاد کا پایہ تخت ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے اور ھندو مذہب کے ہیرو رام چندرجی ، رام لچھمن جی اور ان کی بیوی سیتا کی میزبانی کا بھی-
بس تمبہ کے قریب سے گزرتی ہے تو ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے.... یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ حصنات.....اور یہ عین اسی جگہ واقع ہے جہاں دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازار حسن تھا-

اس خطے میں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں...انگریز دور سے ہی تین بڑے بازار حسن قائم تھے.....لاہور....ملتان ....اور تلمبہ......کراچی کی لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ بہت بعد کی پیداوار ہیں-
تلمبہ کا بازار حسن 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے قائم کیا ، اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص وعام تھا - سینما تھیٹر اور ٹی وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں.....پھر وقت بدلا اور رقص و موسیقی نے باقاعدہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کی اعلی کوالٹی ترقی کرتے کرتے پہلے فنکار....پھر آرٹسٹ اور بعد میں سیلیبریٹیز بن گئ... اور بچا کھچا سامان طوائف کا لیبل لگا کر جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو گیا - تلمبہ کے بازارحسن کی شہرت ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی..... پنجاب میں دیہاتی عورتوں کی کوئ بھی لڑائ ، ایک دوسرے کو "تلمبہ دی کنجری" کہے بغیر آج بھی پھیکی سمجھی جاتی ہے......

جولوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر نصف ایمان کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں....ان کےلیے یہ بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے- پھر ہمارے ہاں تو گندی نالیوں کی صفائ کےلیے بھی عموماً کرسچین رکھے جاتے ہیں .....نیک لوگ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں...اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں......طارق جمیل غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا -

شروع شروع میں مولانا کی یہ "حرکت" ان کے معتقدین کو بھی ناگوار گزری - بازار کے کرتا دھرتاؤں کو بھی اس پر اعتراض ہوا.....لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے..... بازار حسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں...اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا....
مولانا ایک مدت تک چارسو گھروں پر مشتمل اس کنجر محلہ میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس قران دیتے رہے - آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے لگی.....طارق جمیل صاحب انہیں میری بہنوں کہ کر مخاطب کرتے اور نماز کا درس دیتے...امہات المؤمنین کے ایمان افروز واقعات بتاتے......صحابیات کے قصے سناتے....اور کربلاء کی عفت ماب بیبیوں کا تزکرہ فرماتے.......آخر ایک روز ایک عورت نے کہا مولانا تم روز ہمیں درس تو دینے آجاتے ہو....لیکن ہمیں اس کا فائدہ کیا ہے....اگر ہم اس گندے کام سے توبہ بھی کر لیں تو کیا یہ معاشرہ ہمیں قبول کر لے گا.....لوگ تو ہمیں دیکھ کر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے....ہمیں اپنائے گا کون !!!!
مولانا نے کہا کہ رب پر توکل کرو ....وہ فرماتا ہے...."تم میری طرف چل کر آؤ....میں دوڑ کر آؤں گا." ......تم ایک بار چل کر تو دیکھو....باقی رب پر چھوڑ دو.......تاکہ قیامت والے دن کوئ عذر تو ہو تمھارے پاس -
پھر مولانا نے یہ بات مختلف حلقوں میں چلائ.....اس کارخیر کےلیے ملک کے دور دراز علاقوں میں خفیہ و اعلانیہ مہم چلائ.....بہت سے نیک اور صالح نوجوان ان خواتین سے شادی کےلیے تیار ہوگئے .......اور آہستہ آہستہ...پاکستان کے اس تیسرے بڑے بازار حسن کی آبادی گھٹنے لگی.....کئ سال لگے...آخر ایک دن وہ بازار ویران ہوگیا.....اور طارق جمیل صاحب نے وہ جگہ خرید کر مدرسے کےلیے وقف کردی.

اس سب مساعی کے باوجود طارق جمیل میرا آئیڈیل نہیں ہے- وہ ایک انسان محض ہے- اس میں بے شمار عیوب بھی ہیں....میری آئیڈیل شخصیت وہی ہے جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئ سال پہلے خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ....لیکن مجھے فخر ضرور ہے کہ میرے آقا (ص) کا پندھرویں صدی کا امتی طارق جمیل جیسا ہے
نعرے بازی...احتجاج....کافر کافر....تبرا بازی......تو سب کرتے ہیں....کاش کوئ مصلح بھی ہو ...جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا نے اس بدو کا گند صاف ک
بس تمبہ کے قریب سے گزرتی ہے تو ایک نہایت پرشکوہ عمارت نظر آتی ہے.... یہ ہے مولانا طارق جمیل صاحب کا مدرسہ حصنات.....اور یہ عین اسی جگہ واقع ہے جہاں دس بارہ سال پہلے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدیم بازار حسن تھا-

اس خطے میں جسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہتے ہیں...انگریز دور سے ہی تین بڑے بازار حسن قائم تھے.....لاہور....ملتان ....اور تلمبہ......کراچی کی لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ بہت بعد کی پیداوار ہیں-تلمبہ کا بازار حسن 1818 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے قائم کیا ، اور وسط پنجاب میں ہونے کی وجہ سے یہ مقبول خاص وعام تھا - سینما تھیٹر اور ٹی وی کے دور سے پہلے یہاں کی رقاصائیں ملک کے کونے کونے میں اپنے فن کا جادو جگا کر تقریبات کا حسن دوبالا کرتی تھیں.....پھر وقت بدلا اور رقص و موسیقی نے باقاعدہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا روپ اختیار کیا تو بازار بھی اس سے متاثر ہوئے- ان بازاروں کی اعلی کوالٹی ترقی کرتے کرتے پہلے فنکار....پھر آرٹسٹ اور بعد میں سیلیبریٹیز بن گئ... اور بچا کھچا سامان طوائف کا لیبل لگا کر جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہو گیا - تلمبہ کے بازارحسن کی شہرت ضرب المثل کا درجہ رکھتی تھی..... پنجاب میں دیہاتی عورتوں کی کوئ بھی لڑائ ، ایک دوسرے کو "تلمبہ دی کنجری" کہے بغیر آج بھی پھیکی سمجھی جاتی ہے......

جولوگ اپنے گھر کا کچرا باہر گلی میں پھینک کر نصف ایمان کے درجے پہ فائز ہو جاتے ہیں....ان کےلیے یہ بازار قطعاً اس قابل نہ تھا کہ وہ اس کے بارے میں سوچ کر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے- پھر ہمارے ہاں تو گندی نالیوں کی صفائ کےلیے بھی عموماً کرسچین رکھے جاتے ہیں .....نیک لوگ ایسی متعفن جگہوں سے منہ ڈھانک کر اور پائنچے چڑھا کر گزرتے ہیں...اور بد خصلت صرف رات کے اندھیرے میں ادھر جھانکتے ہیں......طارق جمیل غالباً وہ پہلا شخص تھا جس نے دن کے اجالے میں اس تاریک نگر کا رخ کیا -

شروع شروع میں مولانا کی یہ "حرکت" ان کے معتقدین کو بھی ناگوار گزری - بازار کے کرتا دھرتاؤں کو بھی اس پر اعتراض ہوا.....لیکن مولانا کا استدلال یہ تھا کہ دین سیکھنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے کلمہ پڑھ رکھا ہے..... بازار حسن سے تعلق رکھنے والے چونکہ مسلمان ہیں...اس لیے انہیں اس نعمت سے محروم نہیں کیا جاسکتا....مولانا ایک مدت تک چارسو گھروں پر مشتمل اس کنجر محلہ میں جاتے اور ایک کونے میں بیٹھ کر درس قران دیتے رہے - آہستہ آہستہ پیشہ ور خواتین کی ایک معقول تعداد ان کے لیکچرز اٹینڈ کرنے لگی.....طارق جمیل صاحب انہیں میری بہنوں کہ کر مخاطب کرتے اور نماز کا درس دیتے...امہات المؤمنین کے ایمان افروز واقعات بتاتے......صحابیات کے قصے سناتے....اور کربلاء کی عفت ماب بیبیوں کا تزکرہ فرماتے.......آخر ایک روز ایک عورت نے کہا مولانا تم روز ہمیں درس تو دینے آجاتے ہو....لیکن ہمیں اس کا فائدہ کیا ہے....اگر ہم اس گندے کام سے توبہ بھی کر لیں تو کیا یہ معاشرہ ہمیں قبول کر لے گا.....لوگ تو ہمیں دیکھ کر تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتے....ہمیں اپنائے گا کون !!!!

مولانا نے کہا کہ رب پر توکل کرو ....وہ فرماتا ہے...."تم میری طرف چل کر آؤ....میں دوڑ کر آؤں گا." ......تم ایک بار چل کر تو دیکھو....باقی رب پر چھوڑ دو.......تاکہ قیامت والے دن کوئ عذر تو ہو تمھارے پاس -پھر مولانا نے یہ بات مختلف حلقوں میں چلائ.....اس کارخیر کےلیے ملک کے دور دراز علاقوں میں خفیہ و اعلانیہ مہم چلائ.....بہت سے نیک اور صالح نوجوان ان خواتین سے شادی کےلیے تیار ہوگئے .......اور آہستہ آہستہ...پاکستان کے اس تیسرے بڑے بازار حسن کی آبادی گھٹنے لگی.....کئ سال لگے...آخر ایک دن وہ بازار ویران ہوگیا.....اور طارق جمیل صاحب نے وہ جگہ خرید کر مدرسے کےلیے وقف کردی.

اس سب مساعی کے باوجود طارق جمیل میرا آئیڈیل نہیں ہے- وہ ایک انسان محض ہے- اس میں بے شمار عیوب بھی ہیں....میری آئیڈیل شخصیت وہی ہے جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئ سال پہلے خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ....لیکن مجھے فخر ضرور ہے کہ میرے آقا (ص) کا پندھرویں صدی کا امتی طارق جمیل جیسا ہےنعرے بازی...احتجاج....کافر کافر....تبرا بازی......تو سب کرتے ہیں....کاش کوئ مصلح بھی ہو ...جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا نے اس بدو کا گند صاف ک

Unordered List

Total Pageviews

Powered by Blogger.

Followers

Flag counter

Flag Counter